افسانہ میزان از:۔ ایم مبین
"ادھرم کو روکنا بھی دھرم ہے ۔ ادھرم روکنے کے لئے جان بھی دینی پڑے یا کسی کی جان بھی لینی پڑے تو یہ دھرم ہے ، یہ دیش بھی ہمارا دھرم ہے ، اس دیش کے خلاف جو بھی کام کرتا ہے وہ ادھرمی ہیں اور ایسے ادھرمی کا سروناش کرنا دھرم ہے ۔ جو اس دیش کے قانون ، کامن سول کوڈ کو نہیں مانتے ۔ وندے ماترم کا گان نہیں کرتے ، گئو کا احترام نہیں کرتے وہ سب ادھرمی ہیں اور ایسے ادھرمیوں کے خلاف تلوار اُٹھانے کا وقت آگیا ہے ۔ جو لوگ ہمارے رام للّا کا مندر بنانے کا وِرودھ کرتے ہیں ایسے ادھرمیوں کا سنہار کرنے کے لئے اُٹھ کھڑے ہوجاؤ ...... اُٹھ کھڑے ہوجاؤ .... ہر ہر مہادیو ..... جے بھوانی ..... جے شیواجی ..... جے مہاکالی .... سوامی مہاراج کی جے ۔ "
سوامی جی کی آواز لاؤڈ اسپیکر سے چاروں طرف پھیل رہی تھی ۔ پھر ان کی آواز اشتعال انگیز جوشیلے نعروں کے درمیان ڈوب کر رہ گئی تھی ۔ لاؤڈ اسپیکر سے نفرت انگیز ، نعرے ہی اُبل رہے تھے ۔
پل پر کھڑے کھڑے میں نے نیچے میدان پر نظر ڈالی ۔
لاکھوں کی بھیڑ ہوگی ، ہر فرد مٹھیاں بھینچے نعرے لگا رہا تھا ۔ ان نعروں سے مجھے خوف محسوس ہورہا تھا ۔
مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا ، وہ نعرے لگاتی بھیڑ بے قابو ہوگئی ہے ، ان کے ہاتھوں میں ہتھیار آگئے ہیں اور وہ سڑکوں پر اُتر آئی ہے ۔ دوکانوں کو لوٹ رہی ہے ، جلا رہی ہے ، لوگوں کو مار کاٹ رہی ہے اور اس بھیڑ کے درمیان کئی چہرے مسکرا رہے ہیں ، ان میں ایک چہرہ سوامی جی کا بھی ہے ۔
کیا وہ سوامی جی کا چہرہ ہوسکتا ہے ؟
وشنو پنت سوامی کا چہرہ ؟
دُنیا چاہے کچھ بھی کہے میرا دِل یہ ماننے کو تےّار نہیں تھا کہ یہ باتیں سوامی جی کے دِل سے نکل رہی ہیں ۔ سوامی جی اشتعال پھیلانا چاہتے ہیں ، تاکہ یہ اشتعال خونریزی میں تبدیل ہوجائے ۔
سڑکیں آگ اور خون میں نہا جائیں .....
راستے لاشوں سے پٹ جائیں .....
ساری دُنیا کہتی ہے سوامی جی کا یہی منشا ہے ۔
مگر میرا دِل یہ ماننے کو تےّار نہیں ۔
لاؤڈ اسپیکر سے جو تقریر نشر ہورہی تھی میرا دِل تو اس پر بھی یقین کرنے کو تےّار نہیں تھا ۔ لیکن میں اچھی طرح جانتا تھا یہ سوامی جی کی ہی آواز ہے ۔ سوامی جی کی آواز کو میں جتنی اچھی طرح پہچانتا ہوں شاید ہی کوئی اور پہچانتا ہوگا ۔
جس پل کے کنارے میں کھڑا تھا اُسی فلائے اوور پر میرے سر پر ایک بڑی سی ہورڈنگ تھی ۔ جس پر زعفرانی لباس میں دونوں ہاتھ جوڑے سوامی جی کی بڑی سی تصویر تھی ۔
شعلہ بیان ، دھرم ویر ، دھرم سرکھشک سوامی جی وشنو پنت کا بیان ۔
جگہ وہی تھی وقت وہی تھا ۔
آج شاید تیسرا دِن تھا ۔ ابھی آٹھ دس روز اور وہ پروگرام چلے گا ۔ سوامی جی کی زہریلی تقریر سے لاکھوں افراد کے ذہن پراگندہ ہوں گے اور اس کا انجام کیا ہوسکتا ہے اس کے تصور سے ہی میں کانپ اُٹھتا ہوں ۔
میرا مکان ریلوے لائن کی دیوار سے لگ کر ہے ۔ اس کے بعد کچے مکانوں کا ایک طویل سلسلہ ہے ۔
اگر چلتی ٹرین سے کوئی ایک آگ کا گولہ بھی اس بستی کی طرف اُچھال دے تو آگ ساری بستی کو جلا کر راکھ کرسکتی ہے اور میرا مکان بھی محفوظ نہیں رہ سکتا ۔
اس تصور سے ہی میرے جسم میں ایک جھرجھری سی آگئی ۔
سوامی جی کا بھاشن ختم ہوگیا تھا ۔
میدان سے نکل کر بھیڑ برج کی طرف بڑھ رہی تھی ۔ بھیڑ کی وجہ سے برج پر ٹریفک متاثر ہورہی تھی ۔ کچھ لوگ تو آگے اپنی منزل کی طرف بڑھے جارہے تھے ۔ کچھ لوگ پل کے کنارے قطار لگا کر کھڑے ہوئے تھے ۔ شاید اس پل پر سے سوامی جی کی کار گذرنے والی تھی اور وہ لوگ شاید سوامی جی کا درشن کرنا چاہتے تھے ۔
لوگ میرے آگے پیچھے کھڑے ہوگئے اور میں کب اِس قطار کا حصہ بن گیا مجھے پتہ بھی نہیں چل سکا ۔
اب صورتِ حال یہ تھی کہ نہ میں قطار چھوڑ سکتا تھا نہ قطار میں شامل رہنے کے لئے میرا دِل چاہ رہا تھا ۔
سوامی جی کی کار پل پر نمودار ہوئی تھی ۔ لوگ سر جھکا کر اُنھیں سلام کررہے تھے اور سوامی جی ہاتھ اُٹھاکر اُنھیں آشیرواد دے رہے تھے ۔
کار جیسے جیسے قریب آرہی تھی ، سوامی جی کا چہرہ واضح ہوتا جا رہا تھا ۔
کار میرے سامنے آئی تو بے اختیار میرے ہاتھ بھی سلام کے لئے اُٹھ گئے ۔
میری اور سوامی جی کی نظریں ٹکرائیں ۔ ان کے چہرے پر حیرت کے تاثرات اُبھرے ،اُنھوں نے اِشارے سے ڈرائیور کو رُکنے کے لئے کہا ۔
" ارے اکبر بابو آپ .... ! اتنے دِنوں کے بعد دِکھائی دئے ؟ آئیی ! اندر آئیی ....." سوامی جی نے آواز لگائی تو میں دفعتاً ساری بھیڑ کی توجہ کا مرکز بن گیا ۔
سوامی جی مجھے آوازیں دے رہے تھے ۔ اُنھوں نے میرے لئے کار کا دروازہ کھول رکھا تھا ۔ بے ساختہ میں آگے بڑھ گیا ۔
کار میں داخل ہوکر سوامی جی کے پہلو میں جابیٹھا ۔ اُنھوں نے دروازہ بند کیا اور لوگوں کو درشن دے کے اپنا سفر جاری رکھا ۔
تھوڑی دیر بعد درشن لینے والوں کی بھیڑ ختم ہوگئی تو اُنھوں نے کار کے شیشے چڑھا دئے ۔ اےئر کنڈیشن کار میں مجھے سردی محسوس ہونے لگی ۔
کار فراٹے بھرتی تارکو ل کی چکنی سڑک پر آگے بڑھی جارہی تھی ۔
" کہےئے اکبر بابو ! گھر میں سب مزے میں تو ہیں نا ؟بھابھی جی کیسی ہیں ؟ راشد اور اشرف کیسے ہیں ، سارہ تو اب کافی بڑی ہوگئی ہوگی نا ؟ " اُنھوں نے ایک ساتھ کئی سوالات کرڈالے ۔
" ہاں سب مزے میں ہیں ۔ " میں نے جواب دیا ۔ " سارہ اخباروں میں آپ کی تصویر دیکھ کر اپنی سہیلیوں کو بڑے فخر سے بتاتی پھرتی ہے کہ یہ میرے سوامی انکل ہیں ۔ میں ان کی گود میں کھیلتی تھی ۔ "
" معصوم بچی ۔ " سوامی جی کے منہ سے نکلا اور وہ کہیں کھوگئے ۔
مجھے اس بات کی قطعی توقع نہیں تھی کہ ہزاروں کی بھیڑ میں سوامی جی مجھے اتنی آسانی سے پہچان لیں گے اور بلا کر اپنی کار میں بٹھالیں گے اور پھر مجھ سے اس طرح باتیں کریں گے جیسے وہ کبھی میری زندگی سے جدا تھے ہی نہیں ۔
" آپ اب بھی وہیں اسی لائن کے کنارے والے مکان میں رہتے ہیں نا ؟ " سوامی جی نے پوچھا ۔
" ہاں اور کہاں جاسکتے ہیں ؟ اِس بڑے شہر میں مکان تبدیل کرنا اتنا آسان نہیں ہے ۔ "میں نے جواب دیا ۔
" میں جس جھونپڑے میں رہتا تھا ، وہ ہے ؟ " اُنھوں نے پوچھا ۔
" ہاں ، ، میں نے جواب دیا ۔ " پوتیا ( جھونپڑے کے مالک ) نے جس شخص کو کرایی پر دیا ہے وہ اب وہاں دیسی شراب کا غیر قانونی اڈّہ چلاتا ہے ۔ "
میری بات سن کر سوامی جی کے چہرے پر سخت تاثرات اُبھر آئے ۔ اُن کے ذہن میں شاید اُن کے اس ماضی کی یاد تازہ ہوگئی تھی جو اُنھوں نے اس میں گذارا تھا ۔
" میں آپ کو اپنے گھر لے جارہا ہوں ۔ آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہے یا گھر جانے میں دیرتو نہیں ہوگی ؟ سوامی جی نے پوچھا ۔
" بھلا مجھے کیا اعتراض ہوسکتا ہے سوامی جی ؟ " میں نے ہنس کر کہا ۔ " اور جہاں تک تاخیر کی بات ہے گھر والے میرے تاخیر سے آنے کے عادی ہیں ۔ "
" سچ پوچھئے تو بہت دِنوں بعد مجھے کوئی میرا اپنا ملا ہے ۔ اِس لئے دِل کھول کر آج میں آپ سے باتیں کرنا چاہتا ہوں ۔ " سوامی جی بولے ۔
" یہ آپ کی ذرّہ نوازی ہے سوامی جی ! ورنہ میں کس قابل ؟ " میں نے ہنس کر جواب دیا ۔
میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ کبھی سوامی جی سے سامنا ہوگا تو میرے سامنے برسوں پرانے سوامی جی ہوں گے جو میرے مکان کے بازو میں ریلوے لائن کی دیوار سے لگ کر ایک تنگ و تاریک گندی کھولی میں رہتے تھے ۔ جن کا زیادہ تر وقت میرے اور میرے بچوں کے ساتھ گذرتا تھا ۔
میرا خیال تھا سوامی جی مجھے پہچان کر بھی انجان بن جائیں گے اور آگے بڑھ جائیں گے ۔ کیونکہ میں اُن کا تلخ ماضی ہوں ۔ آج اُن کے پاس تابناک حال اور روشن مستقبل ہے پھر بھلا وہ اپنے تلخ ماضی کے بارے میں کیوں سوچیں گے ۔ ؟
میرے مکان کے اطراف جو بھی سوامی جی کو جانتا تھا ان سب کی سوامی جی کے بارے میں اچھی رائے نہیں تھی ۔
" سالا کل تک دانے دانے کو محتاج تھا ، آج اَن داتا بنا پھر رہا ہے ، کل تک لوگوں کی بھیک پر زندہ تھا ، آج دونوں ہاتھوں سے دولت لوٹ رہا ہے ، لوگ اُس پر دولت کی بارش کررہے ہیں ۔ "
" سوامی سے پولیٹیکل سوامی بن گیا ۔ کل تک مندر میں جب پروچن کرتا تھا تو کتے بھی اس کے پروچن کو سننے نہیں آتے تھے ۔ آج جب گرگٹ کی طرح رنگ بدلا ہے ، دھرم کو سیاست کے ساتھ ملا کر بھاشن دیتا ہے تو اس کے بھاشن کو سننے لاکھوں لوگ آتے ہیں ۔ "
سب کے خیالات اس سے بھی گرے ہوئے تھے ۔
جہاں تک میرا خیال تھا سوامی جی کے اس روےّے پر مجھے خود بے حد دُکھ ہوتا تھا ۔
میں نے سوامی جی کو بہت قریب سے دیکھا تھا ۔ اُن کو میں اچھی طرح جانتا تھا ، اس وجہ سے کبھی میں تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ سوامی جی اس طرح گرگٹ کی طرح رنگ بدلیں گے ۔
کل تک بھائی چارہ ، اخوت ، اپنا پن ، مساوات ، انسانیت کا درس دینے والے سوامی جی لوگوں کو نفرت بانٹتے پھریں گے ۔
اشتعال انگیز تقریروں کے ذریعہ لوگوں کے دِلوں میں نفرت کا یہ بیج بوکر اُنھیں ایک دُوسرے کے خون کا پیاسا بنائیں گے ۔
لیکن یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ ہی نہیں تھی ۔
روزانہ اخبارات میں سوامی جی کے جلسوں کی رپورٹیں تصویروں کے ساتھ شائع ہوتی تھیں اُن کی زہریلی تقریروں کو نمایاں انداز میں شائع کیا جاتا تھا ۔
یہاں تک یہ بات مشہور ہوگئی تھی ۔
سوامی جی نے جس شہر میں تقریر کردی اُس شہر میں فرقہ ورانہ فساد ہونا لازمی ہوجاتا تھا ۔
گذشتہ دو سالوں میں میں نے خود سوامی جی کے دو تین جلسوں میں شرکت کی تھی ۔ لیکن میں سوامی جی کی پوری تقریر نہیں سن سکا ۔ جو جو زہر اُنھوں نے اس تقریر میں اُگلا تھا ، میں کوئی شنکر نہیں تھا جواس زہر کو اپنے حلق کے نیچے اُتار لیتا ۔
میں چپ چاپ جلسہ سے اُٹھ آیا ۔
آج بھی اس مقام پر میں سوامی جی کے جلسے میں شریک ہونے کے لئے نہیں آیا تھا ۔
بلکہ اس پل سے گذر رہا تھا تو اس ہورڈنگ پر نظر پڑی ۔ اور نیچے میدان میں لگے لاؤڈ اسپیکروں سے سوامی جی کی آواز سنائی دی تو رُک گیا ۔
اور اب جب سوامی جی کی کار میں ان کے ساتھ ایک انجان منزل کی طرف جارہا تھا تو سوامی جی سے کیا بات کروں میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا ۔
میری آنکھوں کے سامنے ایک سیدھا سادہ برہمن گھوم رہا تھا جو میرے پڑوس میں رہتا تھا ۔
اس علاقے کے ایک غنڈے نے ریلوے لائن کے قریب کی زمینوں پر ناجائز قبضہ کرکے ایک جھونپڑ پٹی بسائی تھی ۔
اس میں میرا بھی ایک کرایی کا مکان تھا ۔ جس کا میں باقاعدگی سے اس غنڈے پوتیا کو کرایہ دیتا تھا ۔ پھر اس نے میرے مکان اور ریلوے لائن کی دیوار کے درمیان جو تھوڑی سی جگہ بچی تھی اس جگہ بھی ایک جھونپڑابنا دیا۔ دودن بعد اس میں ایک نیاکرایہ دار بھی آگیا ۔
یہ کوئی بنارس کا پنڈت تھا ۔
سوامی وشنو پنت اور ان کی بیوی ۔
بنارس کے گھاٹوں پر پوجا پاٹ کرکے وہ اپنا اور اپنے خاندان والوں کا گذر بسر کرتے تھے ۔ بنارس میں اچھا مکان تھا ۔ بال بچے تھے جو پڑھ رہے تھے ۔ لیکن پوجا پاٹھ سے اتنا پیسہ نہیں ملتا تھاکہ جس سے اپنا اور اپنے خاندان والوں کاپیٹ بھر سکے ۔
کسی نے مشورہ دیا ۔ " پنڈت جی آپ ممبئی کیوں نہیں چلے جاتے ؟ بہت بڑا شہر ہے لوگ اتنے دھارمک تو نہیں ہیں لیکن دھرم کے کاموں میں بے انتہا پیسہ خرچ کرتے ہیں ۔ ان کے پاس دھرم کے کام کرنے کے لئے وقت نہیں ہے ۔ ہاں پیسہ دے کر وہ کام ضرور کرواتے ہیں ۔
اپنی پوجا پاٹھ سے اچھی آمدنی کا خواب لے کر سوامی جی بنارس سے ممبئی آئے تھے اور اس گندی بستی میں رہنا بھی قبول کرلیا تھا ۔
سویرے سورج نکلنے سے پہلے ہی گھر چھوڑ دیتے تھے ۔ تو رات دیر گئے واپس گھر آتے تھے ۔
پنڈتائن گھر میں اکیلی رہتی تھی ۔اس کا زیادہ تر وقت ہمارے گھر میں میری بیوی اور بچوں کے ساتھ گذرتا تھا ۔
سوامی جی دِن بھر شہر کے مندروں کی خاک چھانتے پھرتے تھے ۔ شاید کسی مندر میں اُنھیں مستقل طور پر پوجا پاٹ کا کام مل جائے ۔ لیکن اس خاک نوردی سے انھیں پتا چلا تھا کہ ان مندروں پر پہلے ہی دو دو تین تین پجاریوں نے قبضہ کررکھا ہے اور وہ کسی اور کی دال گلنے نہیں دیتے ہیں ۔
ایسے میں وہ ایسے گاہک ڈھونڈتے تھے جو اُنھیں گھر لے جاکر ان سے پوجا پاٹ کرائے ۔
دِن میں ایک آدھ گاہک مل جائے تو اتنا مل جاتا تھا کہ دونوں اپنا پیٹ بھر سکے ۔
" زمانہ بہت خراب آگیا ہے اکبر بابو ! ، ،وہ روزانہ مجھے دِن بھر کی رُوداد سناتے تھے ۔ " لوگوں کا اب دھارمک کاموں میں وشواس اور شردھا نہیں رہی ہے ۔ بڑے سے بڑے پاٹھ کی دکھشنا ۵ ! اور ۱۱ ! روپیہ دیتے ہیں ۔ سمجھ لیجئے بنارس سے برا حال یہاں ہے ، مجھے لگ رہا میں نے ممبئی آکر غلطی کی ہے ۔ "
میں سوامی جی کا شاگرد بن گیا تھا ۔ سوامی جی ایسی باتیں بتاتے تھے جو میں ساری عمر نہیں جان پاتا ۔ میرا دِل چاہتا تھا سوامی جی کہتے رہیں اور میں سنتا رہوں ۔
اس لئے اکثر اتوارکو جب مجھے چھٹی ہوتی تھی میں سوامی جی کے ساتھ مندر جاتا تھا ۔
مسلمان ہونے کے ناطے مندر میں تو نہیں جاسکتا تھا ، مندر کے باہر گھنٹوں بیٹھ کر مندر میں ہوتا سوامی جی کا پاٹھ سنتا تھا ۔ سوامی جی کی محبت ،بھائی چارے ، اُخوت ، مساوات ، انسانیت کا سبق دینے والی باتیں ۔ مجھے وہ انسان کے رُوپ میں فرشتہ محسوس ہوتے تھے ۔
اُنھوں نے ایک سال ہمارے پڑوس میں گذارا ہوگا ۔ لیکن اُن کی حالت غیر رہی ۔ کسی دوکان کے افتتاح کی پوجا ہو یا کسی کا شرادھ ، تین چار گھنٹے پوجا کرنے پر بھی ۱۱روپیہ یا ۵۱ روپیہ ہی ملتا تھا ۔ اس میں سوامی جی اپنا خرچ بھی چلاتے اور اپنے بچوں کو بھی پیسہ بھیجتے جو بنارس میں تھے ۔
ہر روز کہیں نہ کہیں کسی موضوع پر پاٹھ دیتے لیکن ان کے مطابق اس پاٹھ کو سننے والے دس بارہ لوگ بھی نہیں ہوتے ہیں ۔
ایک دِن اُنھیں ایک نئی قسم کی پیش کش ملی۔
ایک سیاسی پارٹی نے گئو رکشا کے موضوع پر ایک جلسہ رکھا تھا ۔ اُنھیں اِس جلسہ میں اِس موضوع پر بولنا تھا۔ سیاسی پارٹی والوں نے ان سے کہا تھا کہ وہ دھرم کے ساتھ ساتھ کچھ سیاست پر بھی بولیں۔ اِس جلسے میں وہ بولے اور سیاسی پارٹی کے افکار کے مطابق بولے ، جلسے میں تالیاں بجتی رہیں اور وہ لوگوں پر چھاگئے ۔ سیاسی پارٹی والوں کو لگا کہ اس آدمی کے ذریعہ وہ اپنی سیاسی دوکان چلا سکتے ہیں ۔ انھوں نے اسے ایک نیا نام سوامی وشنو پنت جی دیتے ہوئے ان سے ۱۰ ، ۱۲جلسے کرائے ۔
تمام جلسے کامیاب رہے ، ہر جلسے میں سوامی جی کی تقریر کا انداز جارحانہ ہوتا جاتا تھا ۔ اور لوگوں کی بھیڑ بڑھتی جارہی تھی اور مقبولیت بھی ۔
چند مہینوں کے اندر وہ ایک مشہور و معروف شخصیت بن گئے ۔ اور اپنا پرانا مکان چھوڑ کر ایک مشہور علاقے میں رہنے چلے گئے ۔ اس کے بعد سوامی جی نے اس پارٹی کے لئے صرف اشتعال انگیز تقاریر کیں ۔
کار ایک بہت بڑے بنگلے میں جاکر رُکی تھی ۔ میں کار سے اُترا تو اِس بنگلے کی شان و شوکت دیکھ کر میری آنکھیں چوندھیا گئیں ۔
" یہ میرا بنگلہ ہے ۔ " سوامی جی فخر سے بولے ۔ " ملک کے کئی حصوں میں اس طرح کے میرے کئی بنگلے ہیں ، میرے بچے بڑے بڑے کالجوں میں پڑھتے ہیں ، میرے کئی دھندے ہیں ۔ "
میں صوفے پر بیٹھ کر سوامی جی کی امارت کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتا رہا ۔
" اکبر بابو ! آج اگر میں کسی کی دوکان یا بزنس کا افتتاح کرتا ہوں تو اسے بہت بڑی سعادت سمجھتا ہے اور اس کے بدلے میں مجھے لاکھوں روپیہ دیتا ہے ۔ بڑے بڑے لوگ اپنے مردہ رشتے داروں کے دھارمک کاریہ مجھ سے کروانے میں فخر سمجھتے ہیں اور اس کے بدلے مجھے لاکھوں روپیہ دیتے ہیں ۔ جس جگہ میرا جلسہ ہوتا ہے لوگ مجھے پیسوں میں تولتے ہیں ۔ کل ان ہی کاموں کے بدلے مجھے دس روپیہ مشکل سے مل پاتے تھے ۔ آج میرے چاروں طرف دولت رہتی ہے ۔ " سوامی جی بولے ۔
" فرق صرف اتنا ہوا ہے کہ میں لوگوں کے میزان کے مطابق بولتا ہوں اور عوام کا میزان کیا ہے ، جانتے ہو... ؟ جب میں لوگوں کو اخوت ، بھائی چارے ، انسانیت اور دھرم کا اُپدیش دیتا تھا تو میری باتوں کو سننے والے دس بیس آدمی نہیں ہوتے تھے اور میں کوڑی کوڑی کا محتاج تھا ۔ لیکن آج جب میں لوگوں کو فرقہ پرستی ، نفرت ، اشتعال انگیزی کی ترغیب دیتا ہوں تو لاکھوں لوگ میرے جلسوں میں شریک ہوتے ہیں ۔ میرے ماننے والے کروڑوں ہیں ۔ میرے ایک ایک بول کے بدلے مجھے لاکھوں روپیہ دیا جاتا ہے ، کل میں ایک ایک لفظ اپنے دِل سے بولتا تھا تو کوڑی کوڑی کا محتاج تھا ۔ آج جب ایک ایک لفظ اپنے دِماغ سے بولتا ہوں تو کروڑوں میں کھیلتا ہوں ۔ " سوامی جی کی بات سن کر میں کسی سوچ میں ڈوب گیا ۔
" کس سوچ میں ڈوب گئے اکبر بابو ! " سوامی جی نے پوچھا ۔
" دُنیا کے میزان کے بارے میں سوچ رہا ہوں سوامی جی ، جس پرآپ تُلے ہیں ۔ "
M.Mubin
303-
BHIWANDI – 421 302
Dist. Thane (

0 comments:
Post a Comment